Farooqabad, Sheikhupura, Pakistan

Mon - Sat 9:00 am - 5:00 pm    |    Fri 09:00 am - 01:00 pm    |    Sunday CLOSED

Voice of Special Person

Empowering Disabled Individuals Worldwide

Voice of Special Person

Empowering Disabled Individuals Worldwide

پاکستان میں خصوصی افراد کی پالیسیاں: آبادی کے بڑھتے تناسب اور ادھورے خواب

پاکستان کی ایک بڑی آبادی کسی نہ کسی معذوری یا جسمانی چیلنج کا شکار ہے، لیکن کیا ہمارا ملک ان کے لیے رہنے کے قابل ہے؟ حکومتِ پاکستان نے وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے قوانین اور پالیسیاں بنائی ہیں، جن کا مقصد خصوصی افراد کو معاشرے کا ایک فعال حصہ بنانا ہے۔ لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان پالیسیوں پر اس کی روح کے مطابق عمل بھی ہو رہا ہے؟

آبادی کا تناسب اور کوٹے میں اضافے کی ضرورت
ایک محتاط اندازے کے مطابق، پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اسی تناسب سے خصوصی افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ حالات میں برسوں پرانا ‘2 سے 3 فیصد کوٹہ’ اب ہرگز کافی نہیں رہا۔ جب خصوصی افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کوٹے کو آبادی کے نئے تناسب کے مطابق بڑھا کر کم از کم 5 فیصد یا اس سے زیادہ کرے۔ صرف کوٹہ بڑھانا ہی کافی نہیں، بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملازمت کا کوٹہ: حق یا صرف تسلی؟
حکومتی پالیسی کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں خصوصی افراد کے لیے 2 سے 3 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ کوٹہ اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ معذوری کسی بھی انسان کے رزق کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اکثر سرکاری اور نجی اداروں میں یہ کوٹہ صرف فائلوں تک محدود رہتا ہے۔ کئی بار اسامیاں مشتہر ہی نہیں کی جاتیں، اور اگر کی جائیں تو بھرتی کا عمل اتنا پیچیدہ ہوتا ہے کہ ایک عام مستحق شخص وہاں تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔

رسائی کا مسئلہ: شہر معذور ہیں یا ہم؟
پالیسی سازی کے وقت یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تمام سرکاری عمارتیں، پارکس اور شاپنگ مالز خصوصی افراد کے لیے “فرینڈلی” بنائے جائیں گے۔ مگر حقیقت میں، پاکستان کے اکثر شہروں میں ریمپ (Ramps) کا نام و نشان تک نہیں۔ وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد کے لیے تھانے، کچہری یا کسی بڑے ہسپتال میں داخل ہونا ایک پہاڑ سر کرنے کے برابر ہے۔ جب تک عمارتوں کے نقشے معذور افراد کی سہولت کو مدنظر رکھ کر پاس نہیں ہوں گے، یہ پالیسیاں محض کاغذ کا ٹکڑا ہی رہیں گی۔

مالی امداد اور سماجی تحفظ
حکومت نے “ہمت کارڈ” اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبوں کے ذریعے مالی امداد کا آغاز تو کیا ہے، لیکن موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ ایک خصوصی شخص کو صرف پیسوں کی نہیں، بلکہ سستی ادویات، مفت علاج اور جدید آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو ان افراد کو دوسروں پر بوجھ بننے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا کرے۔

ہمارا مطالبہ
ہم حکومتِ پاکستان اور مقتدر حلقوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ملازمتوں کے کوٹے پر شفاف عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تمام عوامی مقامات پر ریمپس کی تعمیر لازمی قرار دی جائے اور خصوصی افراد کے لیے مالی امداد کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے۔

پاکستان میں خصوصی افراد کی پالیسیاں: آبادی کے بڑھتے تناسب اور ادھورے خواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top