Farooqabad, Sheikhupura, Pakistan

Mon - Sat 9:00 am - 5:00 pm    |    Fri 09:00 am - 01:00 pm    |    Sunday CLOSED

Voice of Special Person

Empowering Disabled Individuals Worldwide

Voice of Special Person

Empowering Disabled Individuals Worldwide

میرا پتھر، میرا پسینہ: ڈیرہ جالندھریاں سے کامیابی تک کا سفر

Muhammad Ishtiaq Ahmed working as a Web Developer - Voice of Special Person

آج سے تقریباً 40 سال پہلے کی بات ہے، جب میں ضلع شیخوپورہ کے ایک مضافاتی علاقے، لالکے گاؤں میں پیدا ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ باقاعدہ گاؤں بھی نہیں تھا، بس 15-20 گھروں کا ایک چھوٹا سا ڈیرہ تھا جسے ‘ڈیرہ جالندھریاں’ کہا جاتا تھا۔ اس دور میں وہاں نہ بجلی تھی، نہ سڑکیں اور نہ ہی شعور کی کوئی روشنی۔ ہمارے ڈیرے کے لوگوں کی کل کائنات قصبہ فاروق آباد تک ہی محدود تھی اور سرکاری محکموں کے نام پر وہ صرف دو ہی کرداروں سے واقف تھے: ایک ‘ماسٹر’ اور دوسرا ‘فوجی’۔

آزمائش کا آغاز اور سماجی رویے

میری پیدائش کے وقت جب گھر والوں نے دیکھا کہ میری ایک ٹانگ پیدائشی طور پر کمزور اور پاؤں چھوٹا ہے، تو خوشی کا ماحول ایک خاموش فکر میں بدل گیا۔ اس دور میں ‘پولیو’ یا کسی پیدائشی معذوری کا کوئی طبی علم نہ تھا، چنانچہ لوگوں نے اسے توہمات سے جوڑ دیا۔ کوئی اسے چاند گرہن کا اثر کہتا تو کوئی سورج گرہن کا۔

میری والدہ بتاتی ہیں کہ اس وقت ڈیرے کی ایک سب سے بزرگ ‘اماں’ مجھے دیکھنے آئیں اور میری ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہنے لگیں:

“کوئی گل نیں پتر، کی ہویا جے لتاں کمزور نیں؟ جے فوجی نئیں بنے گا تے کی ہویا، ماسٹر تے بن ای جائے گا نا!”

ان سادہ الفاظ میں جہاں ایک طرف ہمدردی تھی، وہیں دوسری طرف یہ ایک تلخ حقیقت بھی تھی کہ معاشرہ معذور انسان کو صرف محدود کاموں کے لائق ہی سمجھتا ہے۔ جیسے جیسے میری عمر بڑھنے لگی، والدین کی یہ پریشانی بھی بڑھنے لگی کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اپنا بوجھ کیسے اٹھائے گا؟

وہ کہانی جس نے تقدیر بدل دی

وسائل کی کمی کی وجہ سے میرا علاج تو ممکن نہ تھا، لیکن میرے والد نے مجھے ہمت کی وہ دوا دی جو دنیا کے کسی ہسپتال میں نہیں ملتی۔ وہ اکثر مجھے اپنے پاس بٹھاتے اور ایک کہانی سنانا شروع کرتے۔

وہ کہانی ایک ایسے بادشاہ کی تھی جس نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے ایک انتہائی کڑی شرط رکھی تھی کہ جو شخص ایک سخت سرد اور برفیلی رات بادشاہ کے بتائے ہوئے ایک خاص کمرے میں زندہ سلامت گزارے گا، وہی شہزادی کا جیون ساتھی بنے گا۔ اس کمرے کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور بھاری بھرکم پتھر رکھا ہوا تھا۔

والد صاحب بتاتے کہ سینکڑوں لوگ وہاں گئے لیکن سردی کی شدت کی وجہ سے صبح تک ان کی لاشیں ہی باہر نکلیں۔ آخر میں ایک ایسا شخص آیا جس نے اپنی عقل اور جسمانی طاقت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اس وزنی پتھر کو اپنی بقا کا ذریعہ بنا لیا۔ وہ ساری رات اس پتھر کو اٹھاتا، اسے دھکیلا، اس کے گرد دوڑتا اور مسلسل سخت ورزش کرتا رہا۔ جب صبح بادشاہ نے کمرہ کھولا تو وہ حیران رہ گیا؛ وہ شخص مرا نہیں تھا، بلکہ مشقت کی وجہ سے اسے پسینہ آیا ہوا تھا! اس نے اس پتھر (رکاوٹ) کو اپنی موت کے بجائے اپنی زندگی کی تپش بنا لیا تھا۔

زندگی کا فلسفہ: پتھر کو اپنی طاقت بنائیں

اس کہانی نے میرے شعور کی آنکھیں کھول دیں۔ میں نے سمجھ لیا کہ یہ دنیا دراصل وہ “برفیلہ کمرہ” ہے اور میری مشکلات میرا وہ “بھاری پتھر” ہیں۔ اس کہانی سے میں نے دو بڑے سبق سیکھے:

  1. پتھر کو ہینڈل کرنا سیکھیں: اگر آپ اپنی مشکل کو صرف ایک بوجھ سمجھ کر اس کے سامنے ڈھیر ہو جائیں گے، تو یہ زندگی کی سردی آپ کو مار ڈالے گی۔ لیکن اگر آپ اسی مشکل کو “سمارٹ طریقے” سے اپنا کر اس کے ساتھ لڑنا سیکھ لیں گے، تو یہی آپ کی بقا کا ذریعہ بنے گی۔
  2. زمانہ قدر تب کرتا ہے جب آپ خود اپنی قدر کرتے ہیں: جب میں نے اپنی کمزوری کو اپنی طاقت (باڈی بلڈنگ، ایتھلیٹکس اور ویب ڈویلپمنٹ) میں بدلا، تو وہی زمانہ جو کبھی مجھے بوجھ سمجھتا تھا، آج میری مثالیں دیتا ہے۔

میری کامیابیاں: معذوری سے خودداری تک

آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کے کرم اور اپنی محنت سے میں نے ان تمام دیواروں کو گرا دیا ہے جو معذوری کے نام پر میرے گرد کھڑی کی گئی تھیں:

  • میں ایک کامیاب ایتھلیٹ اور باڈی بلڈر ہوں۔
  • میں اپنا ذاتی کاروبار سنبھالتا ہوں۔
  • میں ایک ویب ڈویلپر ہوں اور ڈیجیٹل دنیا میں سرگرم ہوں۔

آج میں ایک عام انسان سے کہیں زیادہ کما رہا ہوں اور ایک بھرپور زندگی گزار رہا ہوں۔ میرا پیغام ہر اس شخص کے لیے ہے جو کسی بھی مشکل کا شکار ہے:

“اپنے حصے کے پتھر کو اپنی طاقت بناؤ، ورنہ وہ تمہاری جان لے لے گا۔ اگر تم اسے سہی طریقے سے ہینڈل کرنا سیکھ گئے، تو تم نہ صرف زندہ رہو گے بلکہ زمانے کی آنکھ کا تارہ بن جاؤ گے۔”

میرا پتھر، میرا پسینہ: ڈیرہ جالندھریاں سے کامیابی تک کا سفر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top